ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شیوکمار کو ہائی کورٹ سے بھی راحت نہیں ملی، منی لانڈرنگ معاملہ میں ای ڈی نے شیوکمار سے پوچھ گچھ شروع کی۔ حراست میں لئے جانے کا امکان

شیوکمار کو ہائی کورٹ سے بھی راحت نہیں ملی، منی لانڈرنگ معاملہ میں ای ڈی نے شیوکمار سے پوچھ گچھ شروع کی۔ حراست میں لئے جانے کا امکان

Sat, 31 Aug 2019 11:55:58    S.O. News Service

بنگلورو،31؍اگست (ایس او  نیوز) ریاست کرناٹک میں بھی اس وقت انتقامی سیاست کا دور عروج پر ہے۔ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی بی جے پی حکومت نے کانگریس کے مشکل کشا و سابق ریاستی وزیر ڈی کے شیوکمار کو پھر ایک بار نشانہ بناتے ہوئے ان کے پیچھے اینفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو لگادیا ہے۔ ای ڈی سے سمن موصول ہونے کے بعد شیوکمار نے ای ڈی کے روبرو حاضر ہونے کی مہلت طلب کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جمعرات کو ہائی کورٹ نے ان کی ایک درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ شیوکمار کو منی لانڈرنگ کیس میں ای ڈی نے جمعہ کی دوپہر کو ای ڈی کے روبرو پیش ہونے کا سمن جاری کیا تھا۔ ای ڈی کے سمن کو مسترد کرنے کی مانگ کرتے ہوئے شیوکمار نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ شیوکمار نے ای ڈی کے روبرو حاضر ہونے کی مہلت دلوانے کی درخواست کرتے ہوئے عدالت میں دوبارہ عرضی داخل کی۔ ہائی کورٹ نے اس عرضی کو آج یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ ان کی عرضی پر کل عدالت فیصلہ کرچکی ہے۔ اس طرح شیوکمار کو آج بھی ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد شیوکمار نے دہلی روانہ ہوکر ای ڈی دفتر میں حاضری دی ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ کہاجارہا ہے کہ کل صبح تک بھی ان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ ای ڈی انہیں خصوصی عدالت میں پیش کرکے مزید پوچھ گچھ کے لئے اپنی تحویل میں بھی لے سکتی ہے۔ ای ڈی کے سمن کے  ساتھ ہی بنگلور میں ڈی شیو کمار کے گھر کے باہر ان کے حامیوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ای ڈی کے سمن پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس لیڈرڈی شیو کمار نے کہاکہ میں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ایک سادہ سا انکم ٹیکس کا معاملہ ہے،میں پہلے ہی انکم ٹیکس ریٹرن داخل کر چکا ہوں،اس میں منی لانڈرنگ کا کوئی معاملہ نہیں ہے،کل رات انہوں نے مجھے ایک بجے دہلی آنے کے لئے سمن بھیجا،میں قانون کی عزت کرتا ہوں۔گزشتہ دو سالوں سے میری 84 سالہ ماں کی مکمل جائیداد کو مختلف انکوائری حکام نے گمنام جائیداد کے طور پر منسلک کیا ہے اور میں اس میں گمنام ہوں،ہمارا سارا خون پہلے ہی چوسا جا چکا ہے۔وہیں بتا دیں کہ ڈی شیو کمار کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائیداد کا معاملہ بھی چل رہا ہے۔سال 2017 میں انکم ٹیکس نے ڈی شیو کمار کے 64 ٹھکانوں پر چھاپہ مارا تھا،ان کے خلاف ٹیکس چوری کی شکایات پر کارروائی ہوئی تھی۔اس دوران ڈی شیو کمار اور باقی کانگریس لیڈروں نے سیاسی بدلے کے جذبے سے کارروائی کرنے کا بی جے پی پر الزام لگایا تھا۔ڈی شیو کمار کرناٹک کانگریس کے سب سے امیرلیڈروں میں سے ایک ہیں۔2013 میں الیکشن کمیشن کو دیے حلف نامے میں انہوں نے اپنی جائیداد 250 کروڑ بتائی تھی، جو اب بڑھ کر 600 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔کانگریس لیڈر ڈی شیو کمار پارٹی کے لئے مردآہن کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔جب جب پارٹی پر کسی بھی طرح کا کوئی بحران آیا تو ڈی شیو کمار ڈھال بن کر کھڑے رہے ہیں،انہیں ریاست میں کانگریس کا چانکیا بھی کہا جاتا ہے۔دراصل 2018 اسمبلی انتخابات کے بعد بنی جے ڈی ایس کانگریس اتحاد کی حکومت پر جب جب بحران کے بادل منڈلاتے نظر آئے تب تب ڈی شیو کمار مرد بحران ثابت ہو کر ممبران اسمبلی کو منانے کے لئے پہنچ جاتے تھے۔اس سے پہلے 2018 کے مئی میں بھی ایڈی یورپا کی ڈھائی دن کی حکومت کو گرانے میں ڈی شیو کمار نے اہم کردار ادا کیا تھا اور امیت شاہ کی حکمت عملی پر پانی پھیر دیا تھا۔اس کے بعد سے انہیں کرناٹک کی سیاست کا چانکیا کہا جانے لگا۔یہی وجہ ہے کہ ڈی کے شیو کمار کرناٹک کی سیاست میں کانگریس کا ایک اہم چہرہ بن چکے ہیں۔


Share: